ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / منگلورو:عوامی فکر اور انسانیت سے خالی ادب ’’ لچراور بودا ادب ‘‘ : ابھیمت اجلاس میں لمبالے کا خطاب

منگلورو:عوامی فکر اور انسانیت سے خالی ادب ’’ لچراور بودا ادب ‘‘ : ابھیمت اجلاس میں لمبالے کا خطاب

Mon, 26 Dec 2016 20:43:26    S.O. News Service

منگلورو:26/ڈسمبر(ایس او نیوز)عوام کے دکھ درد کو بیان نہ کرنےو الا ادب ’’ لچر اور بودا ادب‘‘ ہے۔ خود کو عظیم ادیب مان کر لکھے گئے ادب سے زیادہ انسان کو مرکز مان کر لکھا گیا ادب اعلیٰ ہوتاہے۔ ان خیالات کا اظہار مراٹھی زبان کے مشہور ادیب شرن کمار لمبالے نےکیا۔

شہر کے شانتی کرن میں ابھیمت منگلورو کے زیراہتمام دو روزہ ’’ جن نوڑی 2016‘‘(عوامی گفتگو)عنوان پر ادبی و ثقافتی اجلاس کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کررہے تھے۔موصوف نے اپنے خطاب کے دوران بھارتی مقدس کتابوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہاکہ رامائن میں شمبھو ک کے قتل کی کہانی ہے، مہابھارت میں یک لویا کے انگوٹھا کاٹنے کی کہانی ہے، گیتا میں چارورنوں کی تعلیم دی جاتی ہے  تو آخر ہم اس کو کس طرح ادب کی حیثیت سے مانیں۔  اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کچھ ادیب اپنے آپ کو اعلیٰ اور اہم ادیب بتاتے ہیں ، لیکن ان کا پوراقلم اور ادب ہمیشہ اپنے آقاؤں کے گرد گھومتا رہتاہے، ہم ایسے ادب کو بودا ادب  کہتے ہیں، جس سے انسانیت کو کوئی فائدہ ہونے والا نہیں  ہے۔ بہت پہلے کرناٹکا کے ایک وزیر بےکار ادب پر بات کی تھی ، ہم لوگ بھی بچپن سے پی ایچ ڈی تک ایسے ہی بے تکے ادب کو پڑھتے رہے ہیں، اس ادب میں صرف اعلیٰ نسل کے عوام کے عیش و آرام اور ان کے خوابوں کو جگہ دی گئی ہے، ہمارے دکھ درد، تکالیف، دکھڑا کو اس میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ دلتوں ، آدی باسوں  ، پسماندہ طبقات ، اقلیتوں ، خواتین کے متعلق کسی عنوان یا مسئلہ کا اس بھوسے ادب میں کوئی  ذکر نہیں ملتا۔ ہم لوگ جب عوامی زندگی کے متعلق لکھنے کی سوچے تو دلت ادب کی بنیاد پڑی، اب تقریباً تمام زبانوں میں دلت ادب پروا ن چڑھ رہاہے۔اس وقت ہمارے ادب یا مضامین کو کوئی بھی شائع نہیں کر تا تو ہم نے خود اس کو شائع کرنا شروع کیا، جب ہم کامیاب ہوئے تو جن لوگوں نے ادب کو اپنی پکڑ میں رکھا تھا وہ خود چل کر ہمارے پاس آئے۔ اد ب ہمیشہ عوامی ہونا چاہئے، عوام آقاؤں ، لیڈروں سے بھی بڑے ہیں، ان کی فکر کو ترجیح دینا چاہئے، ادب میں انسانیت کے معاملات کو ذکر نہیں کرنا خود انسانیت کے ساتھ بہت بڑا دھوکہ ہوگا، بہت بڑ ا جرم ہونے کی بات کہی۔ انہوں نےحالات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہاکہ بچپن میں  ہمیں امبیڈکر کا فوٹو لے کر گھومنے میں خوف محسوس ہوتاتھا ، اب حالات بدلے ضرور ہیں لیکن فکر نہیں ، ہمیں غیرقانونی اولاد کہتاہے تو آج ہم فخر سے کہتے ہیں کہ غیرقانونی نہیں بلکہ امبیڈکر کی اولاد ہیں۔ اس وقت میڈیا نے بھی امبیڈکر کے ساتھ بے انصافی کیا ہے، صرف گاندھی جی کو دلتوں کاایک لیڈر بتاتے تھے۔ گاندھی جی نے انگریزوں سے آزادی دلائی تو امبیڈکر نے دلتوں  کو ہزاروں سالوں کی غلامی سے نجات دلائی ، اصل میں ان کی جدوجہد ابھی تک جاری ہے۔ اجلاس میں سابق وزیر بی اے محی الدین نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہمارا سماج دن بدن پیچھے کی طرف جارہاہے، عوام توہم پرستی میں مبتلاہیں، ایسے سماج میں شعور کی بیداری پیدا کرنا چاہئے۔ خود فریبی سیاست دانوں اور پارٹیوں کا انکار کریں گے تو ہی یہ کام ہونے کا خیال ظاہر کیا ۔ اس موقع پر منگلورو یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر ناگپا گوڈا نے یکساں تعلیمی پالیسی پر خطاب کیا۔ ادیبہ ڈاکٹر وجیما نے اجلاس کی صدارت کی۔ ابھیمت بلگا کے ڈاکٹر ایچ ایس انوپما نے افتتاحی کلمات پیش کئے ۔


Share: